سندھ کی سیاست | Sindh Ki sayasat Mehdi Fakharzada

Vendor retsis.us
Regular price $ 150.00
Tax included. Shipping calculated at checkout.
Description

سندھ کی سیاست | Sindh Ki sayasat Mehdi Fakharzada(Nasalyati tanazor main)

"میں پسند نہیں کرتا کہ دوسروں کو مرعوب کیا جائے۔

ہم اکثر خوش وقتی کے لیے کسی دوست یا دوستوں کو کہتے ہیں کہ چلو یار کسی ریستوران میں بیٹھ کر چائے پیتے اور کپ لگاتے ہیں۔ ایسی بزم آرائی کا مقصد ہنسی مذاق ہوتا ہے اور اس میں ہوئی باتیں بہت جلد بھول بھال جاتی ہیں ۔ ہمارے مزاحیہ ادب کی عمومی صورت حال بھی کچھ ایسی ہی ہے کہ بات سطحی تفنن طبع یا پھکڑ پن سے کم کم ہی آگے بڑھتی ہے۔ ایسے میں ان مزاح نگاروں کی اہمیت اور بھی بڑھ جاتی ہے جنہیں اس میدان کی نزاکتوں اور لطافتوں کو سنجیدگی سے گرفت میں لینے کی دھن رہتی ہے۔ یہ دھن ان کی کاوشوں میں کوئی ایسی چیزے دیگر پیدا کر دیتی ہے کہ دیر اور دور تک ان کی بازگشت قاری کے ساتھ چلتی ہے۔ ایسی مزاحیہ نگارشات کو بجا طور پر معیاری تخلیقی ادب کے دائرے میں رکھا جاسکتا ہے۔ اس پہلو سے عزیز فیصل کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ وہ اردو کے شعری مزاحیہ ادب کے قارئین کو اپنی موجودگی کا احساس دلانے میں کامیاب ہو چکے ہیں۔ وہ روایتی مزاح نگاروں کے بیوی اور مہنگائی جیسے پامال اور گھسے پٹے موضوع میں بھی اپنی جدت طس ع سے کوئی نہ کوئی منفر و جہت نکال لیتے ہیں۔ وہ بر ہنہ گوئی سے دامن بچاتے ہوئے رمز و ایمائیت کا پیرا یہ اختیار کرتے ہیں جس سے ان کے اشعار کی ادبی قدر و قیمت میں اضافہ ہو جاتا ہے۔ آغاز کار ہی میں قدرت ان پر ایسی مہربان ہوئی کہ انہیں اپنی بہت کی الگ باتوں کے اظہار کے لیے "بشیراں " جیسے منفرد کردار کی تخلیق کا خیال سُجھا دیا۔ ان کے کلام میں اس کردار کی نمو کا سفر جاری ہے اور وقت کے ساتھ ساتھ یہ اپنے خدوخال نکھارتا چلا جا رہا ہے۔ ان کی دلچسپی کے جملہ موضوعات سے متعلق ان کے ہاں مضامین کا تنوع ان کی دینی زرخیزی کا پتا دیتا ہے۔ ان کی تخلیقات کے نئے مجموعے کی اشاعت ہوا کے تازہ جھونکے کی نوید ہے۔

~ فریڈرک نطشے

of Pages 584 Format Hardbound Publishing Date 2021 Language Urdu رفعت ناہید سجاد،افسانہ نگار، ناول نگار اور ماہر تعلیم ہیں۔ اُن کا زیرنظر ناول ”چراغ ِآخر ِشب“ پاکستان کی تاریخ کے مد و جزر سے متعلق ہے۔یہ پاکستان کی کہانی ہے ، جس کے ماضی کی رُوداد لکھی جا چکی ، جس کے حال کے پاس اب کھونے کے لیے کچھ نہیں بچا اور جس کے مستقبل کے لیے نئے چراغ روشن کرنے ہوں گے۔ اس کے کردار بھی عام پاکستانی ہیں، جدوجہد کرتے، انقلاب کے تبدیلی کے خواب دیکھتے پاکستانی، سماج کو بدلنے کے لیے اپنے اپنے حصے کی اینٹ لگانے کی کوشش کرتے، ہرصبح ایک نئی امید، ہر شام ایک پرانی تھکن کے ساتھ۔ ادب کا ایک کام سماجی تاریخ کو رقم کرنا بھی ہوتا ہے، جس سے ہمارے یہاں صرفِ نظر کیا گیا، ہمارے یہاں کے ادب میں سیاسی منظرنامہ کم کم ہی ملتا ہے۔ رفعت ناہید سجاد نے اس ناول میں سماج میں تبدیلی کے لیے متحرک، استحصالی نظام کے خلاف جدوجہد کرنے والے، عوامی تحریکوں میں زندگیاں تج دینے والوں کو اپنے کرداروں میں ڈھالا اور سماجی تاریخ میں زندہ کردیا ہے۔یہ کہانی کسی ایک نظریے کا پرچار نہیں۔ تاریخ کے بیان میں ،لکھنے والے کے انداز اور نکتہ نظر میں تو فرق ہو سکتا ہے، لیکن واقعات کی جمع تفریق میں نہیں۔ ” چراغ آخر شب“ کی کہانی ، روشنی کی وہ لکیر فراہم کر رہی ہے، جس کا سرا پکڑ کرموجودہ نسل ، جن کے دل اپنی زمین سے اکھڑنے کے بہانے ڈھونڈ رہے ہیں ،اپنے گھروں کو واپس لوٹے گی۔

Pages  240

بوئندا خاندان کی سات نسلوں پر مشتمل تجسس سے بھرپور، سحرانگیز، محبت، ملاپ، جنسی خواہشات، نفرت، حسد، ندامت، افسردگی، اور تنہائی جیسے احساسات سے گوندھی یہ کہانی پڑھنے والے کو ایک ایسے جہان میں لے جاتی ہے جہاں اسے یوں لگتا ہے کہ گویا وہ خود بوئندا خاندان کے سو سالہ حالات و واقعات اپنی آنکھوں سے دیکھ رہا ہو۔ جہاں کے انسان، چرند پرند، موسم گویا ہر شے ایک دوسرے میں گوندھے ہوئے ہیں۔ اس ناول میں جنگی تباہکاریوں کو بھی بیان کیا گیا ہے کہ کس طرح جنگ بربادی کی طرف لے جاتی ہے۔ جسکے آخر میں صرف خالی پن، تہہ دامنی اور تنہائی رہ جاتی ہے۔

There are poems on Quaid e Azam Mohammad Ali Jinnah

سوشل میڈیا پر وہ بہت متحرک ہیں۔ شائد ہی کوئی دن ایسا ہو کہ ان کے فیس بک پیج پر ان کی کوئی نئی تحریر موجود نہ ہو ۔لکھنا ان کے لئے شوق سے زیادہ مشن کا درجہ رکھتا ہے۔ وہ سوشل میڈیا کو نظریاتی اور سماجی تبدیلی کے لئے بہت اہم خیال کرتے ہیں یہی وجہ ہے کہ وہ اپنی تحریروں کو زیادہ سے زیادہ لوگوں تک پہنچانے کے لئے سوشل میڈیا کا بھرپور استعمال کرتے ہیں۔

(شاہ محمد مری، Birth of a Genius کے ترجمے کے پیش لفظ سے اقتباس)

میری زندگی آج کل اتنی آرام دہ نہیں ہے جتنی دس برس بیشتر تھی۔ اس کے باوجود میں موت سے خائف نہیں۔ میرے نزدیک وہ فطری عمل ہے موت فطرت کی طرف لوٹ جانے کا عمل ہوگا۔ جس کا میں پہلے بھی ایک حصہ تھا۔

دنیا میں جو قیامت برپا ہے وہ اس نظام کے گھناؤنے چہرے کا عکس ہے۔

اٹھارویں صدی سے عصر حاضر تک نسوانیت پسند تحریک کا مختصر جائزہ

Easy Shipping

Quick Dispatch:

Your سندھ کی سیاست | Sindh Ki sayasat Mehdi Fakharzada orders ship within 1-2 business days.

Delivery Options:

  • Standard: 3-7 business days
  • Fast: 2-3 business days
  • Express: 1-2 business days

Order Tracking:

You'll receive a tracking link by email once your سندھ کی سیاست | Sindh Ki sayasat Mehdi Fakharzada ships.

Need Help?
Questions about سندھ کی سیاست | Sindh Ki sayasat Mehdi Fakharzada, sizing, or delivery? We're just an email away.

Live Shipping Estimates:
Enter your location at checkout to see available shipping methods and costs for سندھ کی سیاست | Sindh Ki sayasat Mehdi Fakharzada in your area.

Get Shipping Estimates

You may also like

recommand products

{{{showcase_5_name}}}

US$ {{{showcase_5_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_5_star}}} ({{{showcase_5_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_6_name}}}

US$ {{{showcase_6_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_6_star}}} ({{{showcase_6_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_7_name}}}

US$ {{{showcase_7_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_7_star}}} ({{{showcase_7_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_8_name}}}

US$ {{{showcase_8_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_8_star}}} ({{{showcase_8_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_9_name}}}

US$ {{{showcase_9_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_9_star}}} ({{{showcase_9_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>

{{{showcase_10_name}}}

US$ {{{showcase_10_price}}}

Min. order: 1 piece

{{{showcase_10_star}}} ({{{showcase_10_reviews}}} reviews)

Sold : Login>>